November 24, 2025

جب ابنِ انشا آخری بار لاہور آئے….

یہ ابنِ انشا کی زندگی کے اس دور کی جھلک ہے جب وہ موت کے قریب ہوگئے تھے اور آخری مرتبہ لاہور آئے تھے۔

ممتاز ادیب، شاعر اور مقبول فکاہیہ نویس ابنِ انشا سے متعلق یہ پارہ نام ور ادیب، شاعر، صحافی اور نقاد احمد ندیم قاسمی کی کتاب سے لیا گیا ہے بعنوان “میرے ہمسفر” شایع ہوئی تھی۔ اس کتاب میں ابنِ انشا کی زندگی کے آخری ایّام کی یہ یادیں محفوظ ہیں۔ احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں:

“اور یہ اس آخری دعوت کا واقعہ ہے جب انشا اپنی بہن کی شادی پر آخری بار لاہور آیا تھا۔ دعوت میں لاہور کی ساری ادبی برادری مدعو تھی۔ انشا کو جس نے بھی دیکھا اس کا جی دھک سے رہ گیا کہ وہ بالکل دھان پان ہو رہا تھا اور اس کا مرض اس کی مسکراہٹوں اور چٹکلوں سے بھی چھپائے نہیں چھپ رہا تھا۔ ”

“اس کی شگفتہ طبعی صحت کے اس عالم میں بھی اسی طرح توانا تھی۔ وہ دوستوں کی مدارات کے سلسلے میں یہاں سے وہاں گھوم رہا تھا۔ میں کھانا ختم کر چکا تو وہ کھیر کے دو پیالے اٹھا کے میرے پاس آیا اور بولا “یہ لیجے آپ تو مٹھاس کے بڑے رسیا ہیں نا۔”

“میں نے کہا “انشا جی! میں تو ابھی ابھی کھیر کے دو پیالے صاف کر چکا ہوں۔ اور انشا بولا “ویسے تو میں کنکھیوں سے دیکھ رہا تھا کہ ابھی ابھی آپ نے کھیر کے ساتویں اور آٹھویں پیالے کی صفائی کی ہے مگر اس نویں دسویں پیالے کا بھی صفایا کر دیجیے کہ صفائی عجب چیز دنیا میں ہے!”

“صحت کے اس مخدوش عالم میں بھی انشا کی خوش مزاجی اور حوصلہ مندی کے وہ نہایت غیر مہم ثبوت میں نے “فنون” میں درج کیے تھے۔ ایک تو لندن سے آنے والے اس کے ایک خط کا یہ جملہ مجھے نہیں بھولتا کہ فنون میں میری کتاب پر تبصرہ شائع ہونا چاہیے اور اگر شائع ہو چکا ہے تو ایک اور تبصرہ بھی شائع کر دیجیے کہ بڑی کتابوں پر ایک سے زیادہ تبصروں کی اشاعت میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔ پھر میرے نام انشا کا مفصل آخری خط تھا اور ساتھ ہی اس کی زندگی کا آخری مضمون جس میں اس نے ملک الموت کی پسلیوں میں بھی ٹہوکے دیے تھے۔ یہ تھا روحانی گہما گہمی اور زندہ دلی سے چھلکتا ہوا انشا جس کی برسی مناتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم خود زندگی کی برسی منا رہے ہیں۔”

About The Author

More Stories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *