کیا پاکستان میں ادویات کی قیمتیں بڑھنے والی ہیں؟
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبید اللہ کا کہنا ہے کہ دوائیں ڈی ریگولیٹ ہونے سے ادویات کی قیمتوں کے تعین کرنے کا اختیار کمپنیوں کو مل گیا ہے۔
نمائندہ اے آر وائی نیوز کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ادویات کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اجازت دی گئی ہے کہ 50 فیصد ادویات کی قیمتوں کا تعین دوائیاں بنانے والی کمپنیاں خود کرے گی، مختلف امراض میں مبتلا مریض جن میں امراض قلب، دماغی امراض اور شوگر کے مریضوں کی ادویات کی قیمتوں انتہائی بلند ترین سطح پر ہیں۔
نیشنل ہیلتھ پالیسی سے متعلق ماہرین نے سیمینار میں شرکت کی جہاں ڈریپ کے حکام نے اعتراف کیا کہ غیر ضروری ادویات تجویز کرنے کے نتیجے میں تقریباً 50 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے جو لوگوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جو ادویات ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز کی جاتی ہیں ستر فیصد ادویات انتہائی غیر ضروری ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتوں کا تعین کمپنیوں کے حوالے کیے جانے سے قیمتیں مزید بڑھیں گی۔
